منگلورو، 4؍اپریل (ایس او نیوز) کیرالہ۔ کرناٹک کے درمیان سرحد کو کرناٹک نے بند کردیا ہے۔ کرناٹک نے اس سرحد پر مٹی کے ڈھیر، پتھر اور ریت سے بھری باریا رکھ کر بند کردیا ہے تا کہ کیرالہ کی طرف سے کوئی بھی کورونا متاثرہ شخص ادھر نہ آسکے۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ یہ معاملہ حل کرنے کیلئے مداخلت کرے۔ کرناٹک نے منگلورو کو کیرالہ کے کاسرگوڈ سے جوڑنے والی قومی شاہراہ بند کردی ہے کیونکہ کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔
جسٹس ناگیشور راؤ اور دیپک گپتا پرمشتمل ڈویژنل بینج نے مرکزی وزارت صحت کے سکریٹری کو اس معاملہ پر دونوں ریاستوں کے محکمہ صحت کے سکریٹریوں سے بات چیت کر کے حل نکالنے کی ہدایت دی۔
خیال رہے کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو کرناٹک کو اپنی عبوری فیصلے میں یہ سرحد کھولنے کی ہدایت دی تھی۔ اس فیصلہ کے خلاف کرناٹک نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے مداخلت کرے۔ عدالت نے اگلی سماعت 7؍ اپریل کو مقرر کی ہے۔
دریں اثناءعدالت نے کہا ہے کہ کوئی بھی ریاست اس وقت معاملہ کو سنگین نہ بنائے۔ جمعرات کے دن کرناٹک نے سپریم کورٹ میں عرضی عائد کر کے کہا ہے کہ اگر منگلورو۔ کاسرگوڈ سرحد کھول دی گئی تو اس سے کرناٹک میں حالات بہت سنگین ہوجائیں گے کیونکہ کاسرگوڈ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے کئی معاملات درج ہوئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے کہاکہ انسداد متعدی امراض قانون 1897ئ کے تحت 31؍مارچ کو فیصلہ لینے کی سخت ضڑورت تھی جس کے تحت دونوں سرحدوں کے درمیان مریضوں سمیت مال و اسبات کی نقل و حمل بند کردی گئی تا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھ نہ سکے۔
کانگریس لیڈر متھن رائے نے بھی جنہوں نے دکشن کنڑا سے لوک سبھا انتخابات لڑ کر ناکام رہے تھے، اپنی طرف سے وکیل سنجے ایم نولی کے ذریعہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ کیرالہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کاسرگوڈ کے لوگ طبی سہولیات اور علاج کیلئے منگلورو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں سے ضروری اشیاء بھی فراہم ہوتی ہے۔ یہ سرحد بند ہوجانے سے کیرالہ کے عوام کو مشکلات ہورہی ہے۔
کرناٹک۔ کیرالہ سرحد پر پولیس پر پتھراؤ
کرناٹک۔ کیرالہ سرحد بند کئے جانے کے بعد یہاں نگرانی کرنےوالے پولیس اہلکاروں پر جمعہ کے دن پتھراؤ کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ذرائع سے خبر ملی ہے کہ جمعہ کی شام نامعلوم نوجوانوں کی طرف سے کئے گئے پتھراؤ میں دکشن کنڑا ضلع سولیا پولیس تھا نہ کے پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ کیرالہ کی طرف سے چند نوجوان گاڑیوں میں آکرسرحد کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی جب پولیس والوں نے روکا تو انہوں نے پتھراؤ کردیا ۔
یہ معاملہ اب شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ کاسرگوڈ سے منگلورو کا سفر صرف 30 منٹ کا ہے اور یہاں کاسرگوڈ کے لوگ منگلورو ہی کو علاج کیلئے آتے ہیں۔ اگر وہ کیرالہ کی راجدھانی تروننت پورم یا کوچی جانا چاہیں تو 7 تا 8 گھنٹے سفر کرنا پڑے گا۔
حال ہی میں کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے بھی وزیر اعظم کو مکتوب لکھ کر اس سرحد کو کھولنے کی گزارش کی تھی لیکن کرناٹک کا کہنا ہے کہ کاسرگوڈ میں زیادہ کورونا متاثرین پائے جارہے ہیں۔ اس لئے وہاں کے لوگوں کا منگلورو میں داخلہ روکا گیا ہے۔
دو دن قبل کیرالہ ہائی کورٹ نے بھی اس بارے میں مرکز کو نوٹس جاری کیا تھا۔ کرناٹک نے جمعرات کے دن کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔